کینبرا،26؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آسٹریلیا کی جنوبی ریاست وکٹوریہ میں پیر کو شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جرم میں کم از کم 26 پولیس افسران اور اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ باقاعدہ تفتیش کے بعد کیا گیا۔ رپورٹوں میں پولیس کی جانب سے جنسی زیادتی اور مجرمانہ لوٹ مار سے متعلق رویوں کی تفتیش کے لئے قائم ایک آزاد ٹاسک فورس کی رپورٹ عام کر دی گئی ہے۔ اس تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سن 2015 سے اب تک تقریباً ایک سو سے زائد ایسے واقعات کا پتہ چلا ہے کہ جن میں پولیس اہلکار جنسی استحصال اور امتیازی سلوک میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایسے دوسرے الزامات کی تفتیش جاری ہیں۔وکٹوریہ کے چیف پولیس کمشنر گراہم آسٹن نے کہا ہے کہ انضباطی جرائم سے متعلق الزامات کے مرتکب مجرموں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ جن میں سے تین افسران کو نکال دیا گیا جبکہ باقیوں نے استعفی دے دیا ہے جب کہ کچھ نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ایک رپورٹر کے سوال پر وکٹوریہ کے چیف پولیس کمشنر گراہم آسٹن نے کہا ہم روزگار کی جگہوں پر ماحول تبدیل کرنے کے لییکوشش کر رہے ہیں جس میں کافی مزاحمت دیکھنے میں آرہی ہیں۔آسٹن نے کہا میں اْن خاتون افسران سیادارے کی طرف سے معافی مانگتا ہو جن کا پولیس فورس کی جانب سے جنسی استحصال کیا گیا ہے اور اب ایسے واقعات کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ٹاسک فورس کے سن 2015 کے جائزے کے مطابق پانچ ہزار افسران کے سروے سے پتہ چلنے کے بعد ذاتی طور پر جنسی ہراساں کیے جانیوالوں میں سات فیصد مرد جبکہ چالیس فیصد خواتین شامل ہیں۔ جنسی استحصال کے ایسے واقعات میں سے صرف گیارہ فیصد کی باضابطہ طور پر شکایات درج کرائی گئی تھیں۔